حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے ہندوستان پہنچنے والے ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے اعزاز میں نئی دہلی کے اوبیرائے ہوٹل میں خصوصی ملاقات اور گفتگو کا پروگرام منعقد ہوا۔ اس پروگرام کی میزبانی ہندوستان میں ایران کے سفیر ڈاکٹر محمد فتح علی نے کی۔

اس موقع پر ایک سکھ مذہبی رہنما نے ہندوستان اور ایران کے تاریخی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے رشتے موجودہ سفارتی تعلقات سے کہیں زیادہ پرانے ہیں۔ انہوں نے مشہور کہاوت ’’ہاتھ کنگن کو آرسی کیا، پڑھے لکھے کو فارسی کیا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں فارسی زبان اور ایرانی ثقافت کے گہرے تاریخی اثرات آج بھی واضح ہیں۔
انہوں نے سکھ مذہب کے بانی گرو نانک دیو جی کے ایران کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سفر نے بھی ہندوستان اور ایران کے عوام کے درمیان روحانی اور انسانی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس تاریخی قربت کو موجودہ دور میں بھی مزید آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔

پروگرام میں مختلف مذہبی اور روحانی شخصیات نے شرکت کی۔ ان میں لکھنؤ کے معروف شیعہ عالم دین حجۃالاسلام والمسلمین مولانا سید کلب جواد نقوی اور آل انڈیا شیعہ پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا یعسوب عباس بھی شامل تھے۔ مولانا یعسوب عباس نے ایرانی صدر سے ملاقات کی اور ہندوستان و ایران کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
کشمیر کے معروف مذہبی رہنما میرواعظ عمر فاروق بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس کے علاوہ کشمیر سے تعلق رکھنے والے عالم دین حجۃالاسلام آغا سید حسن الصفوی اور مولوی عمران رضا انصاری نے بھی پروگرام میں شرکت کی۔
ایرانی صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے اس موقع پر ہندوستان کے ساتھ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران پرامن بقائے باہمی اور آزادی کی پالیسی پر یقین رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بیرونی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔
پروگرام میں ایران کے وزیر خارجہ ڈاکٹر عباس عراقچی سمیت ایرانی وفد کے دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔ اس ملاقات نے ہندوستان کی مذہبی اور ثقافتی تنوع کے ساتھ ایران کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات کی بھی عکاسی کی۔









آپ کا تبصرہ